حدیث نمبر: 3938
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : الْجَنَّةُ مُعَلَّقَةٌ بِقُرُونِ الشَّمْسِ تُنْشَرُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَأَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ كَالزَّرَازِيرِ يَتَعَارَفُونَ مِنْهَا يُرْزَقُونَ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ . ¤ قَالَ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ : إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَالُوا : رَبُّنَا أَلَمْ تَعِدْنَا أَنْ تُورِدَنَا النَّارَ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَكِنَّكُمْ مَرَرْتُمْ بِهَا وَهِيَ خَامِدَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يُونُسَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنت سورج کے سینگوں کے ساتھ معلق ہے ، وہ سال میں ایک مرتبہ پھیلتی ہے ، اور مومنین کی ارواح پرندے میں ہوتی ہیں ، جو زرزور ( مینا کے جیسا ایک پرندہ ) کی طرح کا پرندہ ہوتا ہے ، وہ ( ارواح ) ایک دوسرے سے شناسا ہوتی ہیں اور انہیں جنت کا پھل رزق کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ خالد بن معدان بیان کرتے ہیں : جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! کیا تو نے ہمارے ساتھ یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ہمیں جہنم پر وارد کرے گا ؟ تو پروردگار فرمائے گا : جی ہاں ! لیکن جب تم اس کے پاس سے گزرے تھے تو وہ بجھی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یونس ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3938
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف