حدیث نمبر: 3903
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا تَقُولُونَ لَهُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ : هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ : لِمَ ؟ فَيَقُولُونَ : رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمُغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ : قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے سب سے پہلے کیا ارشاد فرمائے گا ؟ اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے پہلے کیا عرض کریں گے ؟ ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے فرمائے گا : کیا تم لوگ میری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتے تھے تو وہ عرض کریں گے : جی ہاں ۔ اے ہمارے پروردگار ! اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا : وہ کیوں ؟ وہ عرض کریں گے : ہمیں تیرے معاف کرنے اور مغفرت کرنے کی امید تھی تو پروردگار فرمائے گا : تمہارے لئے میری مغفرت واجب ہو گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3903
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف