مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَالثَّابِتِ فِيهِ وَالْفَارِّ مِنْهُ . باب: طاعون کا بیان اس میں اپنی جگہ پر رہنے والے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والے کا بیان
وَعَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَهُ فَوْقَ إِجَارٍ لَهُ فَمَرَّ بِقَوْمٍ يَتَحَمَّلُونَ فَقَالَ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : قَوْمٌ يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ قَالَ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - : تَتَمَنَّى الْمَوْتَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ [ فَإِنَّ الْمَوْتَ ] أَجْرُ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبْ " قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي أُبَادِرُ خِلَالًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَخَوَّفُهُنَّ عَلَى أُمَّتِهِ : " إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ فِي الدِّينِ وَلَا بِأَعْلَمِهِمْ وَفِيهِمْ مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَأَعْلَمُ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ان لوگوں کے ساتھ ایک بلند جگہ پر موجود تھے کچھ لوگ گزرے جو سواری پر سوار تھے انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں تو بتایا گیا کہ یہ لوگ طاعون سے بچنے کے لئے جا رہے ہیں تو سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے ان کے ایک بھتیجے نے ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ان سے کہا: کیا آپ موت کی آرزو کر رہے ہیں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو نہ کرے ، کیونکہ موت مؤمن کے عمل کا اجر ہے ، اس کو ( دنیا میں ) لوٹایا نہیں جائے گا کہ اس کو ایک اور موقعہ دیا جائے “ ۔ تو سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں کچھ چیزوں کے آنے سے پہلے ( دنیا سے ) رخصت ہو جانا چاہتا ہوں جن چیزوں کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ آخری زمانے میں نمودار ہوں گی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں ان چیزوں سے اندیشہ تھا ( وہ چیزیں یہ ہیں ) بے وقوفوں کی حکومت شرطیں زیادہ لگانا خون کو کمتر سمجھنا رشتے داری کے حقوق پامال کرنا اور نوجوانوں کا قرآن کو مزامیر کے طور پر اختیار کرنا ، لوگ کسی ایسے شخص کو آگے نہیں کریں گے جو دین کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو ، یا دین کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو ان لوگوں میں زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا اور زیادہ علم والا موجود ہو گا ، لیکن وہ ایسے شخص کو ( امامت کے لئے ) آگے کریں گے جو قرآن گا کر سنائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔