حدیث نمبر: 3876
وَعَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَهُ فَوْقَ إِجَارٍ لَهُ فَمَرَّ بِقَوْمٍ يَتَحَمَّلُونَ فَقَالَ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : قَوْمٌ يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ قَالَ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - : تَتَمَنَّى الْمَوْتَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ [ فَإِنَّ الْمَوْتَ ] أَجْرُ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبْ " قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي أُبَادِرُ خِلَالًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَخَوَّفُهُنَّ عَلَى أُمَّتِهِ : " إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ فِي الدِّينِ وَلَا بِأَعْلَمِهِمْ وَفِيهِمْ مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَأَعْلَمُ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ان لوگوں کے ساتھ ایک بلند جگہ پر موجود تھے کچھ لوگ گزرے جو سواری پر سوار تھے انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں تو بتایا گیا کہ یہ لوگ طاعون سے بچنے کے لئے جا رہے ہیں تو سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے ان کے ایک بھتیجے نے ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ان سے کہا: کیا آپ موت کی آرزو کر رہے ہیں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو نہ کرے ، کیونکہ موت مؤمن کے عمل کا اجر ہے ، اس کو ( دنیا میں ) لوٹایا نہیں جائے گا کہ اس کو ایک اور موقعہ دیا جائے “ ۔ تو سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میں کچھ چیزوں کے آنے سے پہلے ( دنیا سے ) رخصت ہو جانا چاہتا ہوں جن چیزوں کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ آخری زمانے میں نمودار ہوں گی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں ان چیزوں سے اندیشہ تھا ( وہ چیزیں یہ ہیں ) بے وقوفوں کی حکومت شرطیں زیادہ لگانا خون کو کمتر سمجھنا رشتے داری کے حقوق پامال کرنا اور نوجوانوں کا قرآن کو مزامیر کے طور پر اختیار کرنا ، لوگ کسی ایسے شخص کو آگے نہیں کریں گے جو دین کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو ، یا دین کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو ان لوگوں میں زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا اور زیادہ علم والا موجود ہو گا ، لیکن وہ ایسے شخص کو ( امامت کے لئے ) آگے کریں گے جو قرآن گا کر سنائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن