مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَالثَّابِتِ فِيهِ وَالْفَارِّ مِنْهُ . باب: طاعون کا بیان اس میں اپنی جگہ پر رہنے والے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والے کا بیان
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ الطَّاعُونَ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ عُبَادَةُ : أُمُّكَ هِنْدٌ أَعْلَمُ مِنْكُمْ فَأَتَمَّ خُطْبَتَهُ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُبَادَةَ فَنَفَرَتْ رِجَالُ الْأَنْصَارِ مَعَهُ فَأَجْلَسَهُمْ وَدَخَلَ عُبَادَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ وَتَسْتَحِي إِمَامَكَ ؟ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ : أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ثُمَّ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى ثُمَّ أَخَذَ بِقَائِمَةِ السَّرِيرِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي ذَكَرْتُ لَكُمْ حَدِيثًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَإِذَا الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثَنِي عُبَادَةُ فَاقْتَبِسُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ مِنِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤یعلی بن شداد بن اوس بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں طاعون کا ذکر کیا ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری والدہ ہند تم سے زیادہ علم رکھتی ہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنا خطبہ مکمل کیا ، پھر انہوں نے نماز پڑھائی پھر انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بٹھایا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ اندر آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ تعالیٰ ڈرتے نہیں ہیں اور اپنے امام سے حیاء نہیں کرتے ہیں تو سیدنا عبادہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں نے اللہ کے رسول کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گا پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے وقت تشریف لائے انہوں نے نماز پڑھائی پھر انہوں نے پلنگ کے پائے کو پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے منبر پر تمہارے سامنے ایک بات ذکر کی تھی پھر میں گھر گیا تو اصل بات وہ ہے ، جو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی ، تو تم ان سے استفادہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔