مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ . باب: طاعون کا بیان اور اس کے ذریعے شہادت حاصل ہونا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرَةَ : أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ مُعَاذٍ مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثَ مَعَهُ فِي دَارِهِ وَفِي مَنْزِلِهِ فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَطُعِنَ مُعَاذٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ وَأَبُو مَالِكٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حِينَ حَسَّ بِالطَّاعُونِ فَرَّ وَفَرَقَ فَرَقًا شَدِيدًا وَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ تَفَرَّقُوا فِي هَذِهِ الشِّعَابِ فَقَدْ نَزَلَ بِكُمْ أَمْرٌ [ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ] لَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزٌ وَطَاعُونٌ فَقَالَ لَهُ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ : كَذَبْتَ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو : صَدَقْتَ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : كَذَبْتَ ، لَيْسَ بِالطَّاعُونِ وَلَا الرِّجْزِ وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ ، اللَّهُمَّ فَآتِ آلَ مُعَاذٍ النَّصِيبَ الْأَوْفَرَ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ قَالَ : فَمَا أَمْسَى حَتَّى طُعِنَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُهُ وَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ الَّذِي كَانَ يُكَنَّى بِهِ فَرَجَعَ مُعَاذٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَهُ مَكْرُوبًا ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ كَيْفَ أَنْتَ ؟ فَاسْتَجَابَ لَهُ فَقَالَ : يَا أَبَتِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ : وَإِنَّا ( إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ) ، فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ وَدَفَنَهُ مِنَ الْغَدِ فَجَعَلَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٌ يُرْسِلُ الْحَارِثَ بْنَ عَمِيرَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ يَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ ؟ فَأَرَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ طَعْنَةً فِي كَفِّهِ فَبَكَى الْحَارِثُ بْنُ عَمِيرَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ وَفَرَقَ مِنْهَا حِينَ رَآهَا فَأَقْسَمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِاللَّهِ مَا يُحِبُّ أَنَّ لَهُ مَكَانَهَا حُمْرُ النَّعَمِ . ¤ فَقَالَ : فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى مُعَاذٍ فَوَجَدَهُ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَبَكَى الْحَارِثُ وَاسْتَبْكَى ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاذًا أَفَاقَ فَقَالَ : يَا ابْنَ الْحِمْيَرِيَّةِ لِمَ تَبْكِي عَلَيَّ ؟ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَقَالَ الْحَارِثُ : وَاللَّهِ مَا عَلَيْكَ أَبْكِي ! ! فَقَالَ مُعَاذٌ : فَعَلَى مَا تَبْكِي ؟ قَالَ : أَبْكِي عَلَى مَا فَاتَنِي مِنْكَ الْعَصْرُ مِنَ الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : أَجْلِسْنِي ، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ : اسْمَعْ مِنِّي فَإِنِّي أُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ : إِنَّ الَّذِي تَبْكِي عَلَيَّ مِنْ غُدُوِّكَ وَرَوَاحِكَ فَإِنَّ الْعِلْمَ مَكَانُهُ بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ ، فَإِنْ أَعْيَا عَلَيْكَ تَفْسِيرُهُ فَاطْلُبْهُ بَعْدِي عِنْدَ ثَلَاثَةٍ : عُوَيْمِرُ أَبُو الدَّرْدَاءُ أَوْ عِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَوْ عِنْدَ ابْنِ أُمُّ عَبْدٍ ، وَأُحَذِّرُكَ زَلَّةَ الْعَالَمِ وَجِدَالَ الْمُنَافِقِ ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاذًا اشْتَدَّ بِهِ [ النَّزْعُ ] نَزْعُ الْمَوْتِ فَنَزَعَ نَزْعًا لَمْ يَنْزِعْهُ أَحَدٌ فَكَانَ كُلَّمَا أَفَاقَ مِنْ غَمْرَةٍ فَتَحَ طَرْفَهُ فَقَالَ : اخْنُقْنِي خَنْقَتَكَ فَوَعِزَّتِكَ [ إِنَّكَ ] لَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّكَ ، فَلَمَّا قَضَى نَحْبَهُ انْطَلَقَ الْحَارِثُ حَتَّى أَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ قَالَ الْحَارِثُ : أَخِي مُعَاذٌ أَوْصَانِي بِكَ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ وَلَا أَرَانِي إِلَّا مُنْطَلِقًا إِلَى الْعِرَاقِ فَقَدِمَ الْكُوفَةَ فَجَعَلَ يَحْضُرُ مَجْلِسَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي الْمَجْلِسِ قَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : امْرُؤٌ مِنَ الشَّامِ ، قَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ : نِعْمَ الْحَيُّ أَهْلُ الشَّامِ لَوْلَا وَاحِدَةٌ ! قَالَ الْحَارِثُ : وَمَا تِلْكَ الْوَاحِدَةُ ؟ قَالَ : لَوْلَا أَنَّهُمْ يَشْهَدُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَاسْتَرْجَعَ الْحَارِثُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ : صَدَقَ مُعَاذٌ فِيمَا قَالَ لِي فَقَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ : مَا قَالُ لَكَ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : حَذَّرَنِي زَلَّةَ الْعَالِمِ ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ - يَا ابْنَ مَسْعُودٍ - إِلَّا أَحَدُ رَجُلَيْنِ : إِمَّا رَجُلٌ أَصْبَحَ عَلَى يَقِينٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَوْ رَجُلٌ مُرْتَابٌ لَا تَدْرِي أَيْنَ مَنْزِلُكَ ؟ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : صَدَقَ أَخِي إِنَّهَا زَلَّةٌ فَلَا تُؤَاخِذْنِي بِهَا ، فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِ الْحَارِثِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الْحَارِثُ : لَا بُدَّ لِي أَنْ أُطَالِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ بِالْمَدَائِنِ فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ بِالْمَدَائِنِ فَلَمَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ : مَكَانَكَ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ ، قَالَ الْحَارِثُ : وَاللَّهِ مَا أَرَاكَ تَعْرِفُنِي يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : بَلَى عَرَفَتْ رُوحِي رُوحَكَ قَبْلَ أَنْ أَعْرِفَكَ إِنَّ الْأَرْوَاحَ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي غَيْرِ اللَّهِ اخْتَلَفَ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الشَّامِ ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَتَعَارَفُونَ فِي اللَّهِ وَيَتَزَاوَرُونَ فِي اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَى أَحْمَدُ بَعْضَهُ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ طَرَفًا مِنْهُ . ¤عبدالرحمن بن غنم نے حارث بن عمیرہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن سے آئے اور ان کے محلے اور ان کے گھر میں ان کے ساتھ ٹھہرے رہے ان لوگوں کو طاعون لاحق ہو گیا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ ایک ہی دن میں طاعون کا شکار ہوئے جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو طاعون کا اندازہ ہوا تو انہوں نے راہ فرار اختیار کی اور وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئے انہوں نے ارشاد فرمایا : مختلف گھاٹیوں میں بکھر جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تم پر نازل ہونے لگا ہے میرا خیال ہے یہ عذاب ( یا گندگی ) اور طاعون ہے ، تو سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو ، ہم اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں تم اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہو ، تو سیدنا عمرو نے کہا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو یہ نہ تو طاعون ہے ، اور نہ ہی عذاب ہے ، بلکہ یہ تمہارے پروردگار کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا اور نیک لوگوں کی موت کی صورت ہے اے اللہ ! تو معاذ کے گھر والوں کو اس رحمت میں سے زیادہ حصہ عطا فرما ۔ راوی کہتے ہیں : شام ہونے تک سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن بھی طاعون کا شکار ہو گئے وہ صاحبزادے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب تھے ، اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ انہی کی نسبت سے کنیت اختیار کرتے تھے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ مسجد سے واپس تشریف لائے تو انہیں پریشانی کے عالم میں پایا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! تمہارا کیا حال ہے ؟ ان صاحبزادے کے حق میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا مستجاب ہو گئی تھی ان صاحبزادے نے کہا: اے ابا جان یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے آنے والا حق ہے آپ نے شک کا شکار ہونے والوں میں سے ہرگز نہیں ہونا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو ہم صبر کرنے والوں میں سے ہوں گے وہ صاحبزادے اسی رات انتقال کر گئے تو اگلے دن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کر دیا پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حارث بن عمیرہ کو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ ان سے دریافت کریں کہ ان کا کیا حال ہے ، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حارث کو دکھایا کہ ان کی ہتھیلی میں طاعون کا نشان موجود ہے ، تو حارث بن عمیرہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رونے لگے جب انہوں نے یہ دیکھا تو وہ ان کے پاس سے اٹھ کر آ گئے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ انہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس زخم کی جگہ انہیں سرخ اونٹ مل جائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حارث بن عمیرہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے ، تو انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری ہو چکی تھی حارث رونے لگے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا: اے ابن حمیر یہ ! تم مجھ پر کیوں رو رہے ہو ؟ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں حارث نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ پر نہیں رو رہا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر تم کس بات پر رو رہے ہو ؟ حارث نے کہا: میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ صبح و شام کا آپ کا تعلق مجھ سے چھوٹ جائے گا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے بٹھاؤ حارث نے انہیں بٹھا دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری بات سنو میں تمہیں ایک وصیت کرنے لگا ہوں تم اس وجہ سے رو رہے ہو کہ صبح و شام کا ساتھ چھوٹ جائے گا علم کی جگہ مصحف کے دوالواح کے درمیان ہے ( یعنی قرآن مجید ہے ) اگر تم اس کی تفسیر میں تھک جاتے ہو ، تو میرے بعد علم کو تین آدمیوں کے پاس تلاش کرنا عویمر ابودرداء یا سلمان فارسی کے پاس ، یا ابن ام عبد کے پاس اور میں تمہیں عالم کی لغزش اور منافق کے ساتھ بحث کرنے سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر نزع کا عالم شدید ہو گیا جو موت کی نزع کا عالم تھا انہیں جب بھی نزع کی تکلیف لاحق ہوتی تھی اور جب بھی بے ہوشی میں افاقہ ہوتا تھا ، تو وہ اپنی پلک اٹھا کر یہ کہتے تھے یہ تیری طرف سے آنے والا دباؤ ہے ، جو مجھے لاحق ہوا ہے ، اور تیری عزت کی قسم ہے ، تو یہ بات جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں ۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو حارث وہاں سے روانہ ہوئے اور حمص میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے جتنا اللہ کو منظور تھا وہ اتنا عرصہ ان کے پاس ٹھہرے رہے پھر حارث نے کہا: میرے بھائی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کے بارے میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور سیدنا ابن اُتم عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں وصیت کی تھی اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے عراق جانا چاہے پھر وہ کوفہ آ گئے اور سیدنا ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کی محفل میں صبح و شام حاضر ہونے لگے ایک مرتبہ وہ اسی محفل میں موجود تھے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ انہوں نے بتایا : شام سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل شام اچھا گروہ ہے اگر ان میں ایک خامی نہ ہو حارث نے دریافت کیا : وہ ایک چیز کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ نے فرمایا : یہ نہ ہو کہ وہ لوگ اپنے بارے میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ جنتی ہیں تو حارث نے دو یا شاید تین مرتبہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہا: اور پھر یہ کہا: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جو بات کہی تھی وہ ٹھیک کہی تھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! انہوں نے تم سے کیا کہا: تھا ؟ حارث نے بتایا انہوں نے مجھے عالم کی لغزش سے بچنے کی تلقین کی تھی اور اے سیدنا ابن مسعود اللہ کی قسم ! آپ دو قسم کے افراد میں سے کوئی ایک ہیں ، یا تو آدمی یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے یقین پر صبح کرتا ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ایسی صورت میں آپ جنتی ہوں گے یا پھر آدمی شک کا شکار ہوتا ہے ، تو آپ کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا ٹھکانہ کیا ہو گا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے بھائی نے ٹھیک کہا: تھا یہ لغزش تھی تماس کے حوالے سے میرا مواخذہ نہ کرو پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر اپنے گھر چلے گئے پھر جتنا اللہ کو منظور تھا حارث وہاں ٹھہرے رہے پھر حارث نے کہا: میرے لئے یہ ضروری ہے کہ میں ابوعبداللہ سلمان فارسی سے مدائن میں جا کے مل لوں ۔ پھر حارث وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ مدائن میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب انہوں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنی جگہ رہو میں نکل کر تمہارے پاس آتا ہوں حارث نے کہا: اللہ کی قسم ! اے ابوعبداللہ آپ کے بارے میں میری یہ رائے نہیں تھی کہ آپ مجھے پہچانتے ہوں گے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ لیکن میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا تھا اس سے پہلے کہ میں تمہیں پہچانوں ، روحیں ( عالم ارواح میں ) گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں وہاں جو ایک دوسرے سے متعارف تھیں ( دنیا میں ) وہ ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور وہاں جو ایک دوسرے سے نا آشنا تھیں وہ دنیا میں لاتعلق رہتی ہیں پھر جتنا اللہ کو منظور تھا حارث ان کے ہاں ٹھہرے رہے پھر وہ شام واپس چلے گئے ۔ تو یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے کو پہچانتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے ملا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے بزار کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔