مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ . باب: جس شخص کی بینائی رخصت ہو جائے
وَعَنْ أَبِي ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا ظِلَالٍ مَتَّى أُصِيبَ بَصَرُكَ ؟ قَالَ : لَا أَعْقِلُهُ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : يَا جِبْرَائِيلُ مَا ثَوَابُ عَبْدِي إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْهِ إِلَّا النَّظَرُ إِلَى وَجْهِي وَالْجِوَارُ فِي دَارِي ؟ " وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكُونَ حَوْلَهُ يُرِيدُونَ أَنْ تَذْهَبَ أَبْصَارُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْرَسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَأَبُو ظِلَالٍ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ابوظلال قسملی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : اے ابوظلال ! تمہاری بینائی کب رخصت ہوئی تھی انہوں نے جواب دیا : مجھے یاد نہیں ہے سیدنا انس نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل کے حوالے سے اپنے پروردگار کے حوالے سے ہمیں بیان کی تھی آپ نے بتایا تھا پروردگار نے فرمایا : ” اے جبرائیل ! میرا وہ بندہ جس کی میں نے بینائی رخصت کر دی ہو اس کا ثواب صرف میری ذات کا دیدار اور میرے پڑوس میں ٹھہرنا ہے “ ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا کہ جو آپ کے ارد گرد موجود تھے وہ رونے لگے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کی بینائی رخصت ہو جائے ( اور اس کا یہ اجر و ثواب انہیں حاصل ہو جائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشرس بن ربیع ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ابوظلال نامی راوی کو امام ابوداؤد امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔