حدیث نمبر: 3844
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ : " لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ ؟ " قَالَ : إِذَا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ قَالَ : " إِذَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " قَالَ : فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ بَصَرَهُ ثُمَّ مَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ فِي عِيَادَتِهِ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَنُبَاتَةُ بِنْتُ بَرِيرِ بْنِ حَمَّادٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین

انیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے آپ ان کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری بیماری کے حوالے سے تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، لیکن اس وقت تمہارا کیا بنے گا کہ جب تمہیں میرے بعد مزید عمر نصیب ہو گی ، اور تم نابینا ہو جاؤ گے انہوں نے عرض کی : پھر میں صبر سے کام لوں گا ، اور ثواب کی امید رکھوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی صورت میں تم کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی لوٹا دی تھی پھر ان کا انتقال ہوا تھا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو ان کی عیادت کرنے کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ نباتہ بنت بریر بن حماد کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3844
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف