مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ . باب: جس شخص کی بینائی رخصت ہو جائے
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا ابْتُلِيَ عَبْدٌ بَعْدَ ذَهَابِ دِينِهِ بِأَشَدَّ مِنْ بَصَرِهِ ، وَمَنِ ابْتُلِيَ بِبَصَرِهِ فَصَبَرَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دین کے رخصت ہو جانے کے بعد بندے کو ایسی کسی آزمائش کا شکار نہیں کیا گیا جو بینائی کی رخصتی سے زیادہ شدید ہو جس شخص کو بینائی کے حوالے سے آزمائش کا شکار کیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے ( یعنی فوت ہونے ) تک صبر سے کام لے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اسے کوئی حساب نہیں دینا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔