مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحُمَّى . باب: بخار کا بیان
وَعَنْ فَاطِمَةَ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ : عَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَهِيَ وَجِعَةٌ فَقَالَ لَهَا : " كَيْفَ تَجِدِينَكِ ؟ " قَالَتْ : بِخَيْرٍ إِلَّا أَنَّ أُمُّ مِلْدَمٍ قَدْ بَرِحَتْ بِي [ يَعْنِي : الْحُمَّى ] ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْبِرِي فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَبَثَ ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْحُمَّى فِي الطِّبِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدہ فاطمہ خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جس کا تعلق انصار سے تھا وہ خاتون بیمار تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کیا صورت حال پا رہی ہو ؟ اس نے عرض کی : ٹھیک ہوں ، لیکن مجھے مسلسل بخار رہ رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم صبر سے کام لو ! کیونکہ یہ ( یعنی بخار ) انسان کے میل کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میں ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بخار کے بارے میں مزید احادیث طب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔