حدیث نمبر: 3811
وَعَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ : أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ الرَّوَاحَ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ [ الْأَنْصَارِيَّ ] وَالصَّنَايِحِيُّ مَعَهُ فَقُلْتُ : أَيْنَ تُرِيدَانِ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ ؟ فَقَالَا : نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ مِنْ مِصْرَ نَعُودُهُ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ فَقَالَ : أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةٍ فَقَالَ لَهُ شِدَادٌ : أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَاجْرُوا لَهُ كَمَا كُنْتُمْ تُجْرُوهُ لَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ كُلُّهُمْ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ رَاشِدٍ الصَّنْعَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي غَيْرِ الشَّامِيِّينَ . ¤
محمد محی الدین

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں : وہ مسجد دمشق کی طرف گئے ۔ وہ جلدی چلے گئے تھے ان کی ملاقات سیدنا شداد بن اوس انصاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی صنایحی ان کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ آپ دونوں حضرات پر رحم کرے آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ ان دونوں نے جواب دیا : ہم یہاں اپنے بھائی کی عیادت کرنے کے لئے جا رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : میں بھی ان دونوں کے ساتھ روانہ ہو گیا یہ دونوں صاحبان اس شخص کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں نے نعمت کے ہمراہ صبح کی ہے ، تو سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم گناہوں کے کفارے اور خطاؤں کے مٹائے جانے کی خوشخبری قبول کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزمائش ( یعنی بیماری ) کا شکار کرتا ہوں ، اور میں نے اسے جس آزمائش کا شکار کیا ہو اس کے حوالے سے وہ میری حمد بیان کرتا ہے ( تو اے فرشتو ) تم اس کے لئے اس کی مانند اجر نوٹ کرو جس طرح تم اس کے لئے اجر اس وقت نوٹ کرتے تھے ، جب وہ تندرست ہوتا تھا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ان سب حضرات نے اسے اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے راشد صنعانی سے نقل کیا ہے ، اور اہل شام کے علاوہ سے روایت نقل کرنے میں یہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3811
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف