مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ كَفَّارَةِ سَيِّئَاتِ الْمَرِيضِ وَمَا لَهُ مِنَ الْأَجْرِ . باب: بیمار کی برائیوں کا کفارہ اور اسے کتنا اجر نصیب ہوتا ہے ؟
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الشَّدِيدِ الَّذِي أَصَابَهُ فَقَالَ : إِنِّي لَأَرْثِيَ لَكَ مِمَّا أَرَى ! ! قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَبَّهُ إِلَيَّ أَحَبُّهُ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَقَدْ قَالَ : مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ فَهَذَا مَا كَسَبَتْ يَدَايَ ثُمَّ يَأْتِينِي عَفْوُ رَبِّي بَعْدُ فِيمَا بَقِيَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤حسن بصری بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ ان کی اس شدید بیماری کے دوران کی بات ہے ، جو انہیں لاحق ہوئی تھی تو انہوں نے فرمایا : میں جو صورت حال دیکھ رہا ہوں ، اس کے حوالے سے میں آپ کے سامنے افسوس کا اظہار کرتا ہوں تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! ایسا نہ کرو ، اللہ کی قسم ! وہ چیز میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تمہیں جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ اس چیز کی وجہ سے ہوتی ہے ، جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا ہوتا ہے ، اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے “ ۔ تو یہ وہ چیز ہے ، جو میرے ہاتھوں نے کمائی ہے ، اور پھر میرے پاس میرے پروردگار کی معافی آ جائے گی ، جو باقی رہ جانے والی چیزوں کے بارے میں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔