حدیث نمبر: 3798
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَالَنَا بِهَا ؟ قَالَ : " كَفَّارَاتٌ " قَالَ أَبِي : وَإِنْ قَلَّتْ ؟ قَالَ : " وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا " قَالَ : فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهَا حَتَّى مَاتَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي الْحُمَّى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یہ بیماریاں جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہمیں ان کا کیا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کفارہ بن جاتی ہیں ۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : خواہ وہ تھوڑی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خواہ کوئی کانٹا لگتا ہے ، یا اس سے بھی کمتر کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے “ ۔ رادی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے بارے میں یہ دعا کی تھی کہ مرتے دم تک انہیں ہمیشہ بخار رہے ، لیکن وہ بخار انہیں حج اور عمرے کی ادائیگی ، یا اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے سے ، یا با جماعت فرض نماز ادا کرنے سے نہ روکے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ان کی مرتے دم تک یہ حالت رہی تھی کہ جو بھی شخص انہیں چھوتا تھا ، اُسے بخار محسوس ہوتا تھا ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، سیدنا ابی بن کعب سے منقول حدیث آگے چل کر بخار سے متعلق باب میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3798
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حدیث