وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسٌ مَنْ فَعَلَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، أَوْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًّا ، أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ تَعْزِيرَهُ وَتَوْقِيرَهُ ، أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَسَلِمَ النَّاسُ مِنْهُ وَسَلِمَ مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ کام ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے کوئی ایک کام کر لے تو وہ اللہ تعالی کے ذمہ میں ہو گا ، جو شخص بیمار کی عیادت کرے یا جنازے کے ساتھ جائے یا جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے یا کسی امام کے پاس جائے اور اس کا مقصد اس کی مدد اور اس کی ، توقیر کرنا ہو ، یا وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے ، تو لوگ اس سے سلامت رہیں اور وہ لوگوں سے سلامت رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جہاد کی فضیلت سے متعلق باب میں اس روایت کا ایک اور حوالہ بھی آئے گا ۔