مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ شِدَّةِ الْبَلَاءِ . باب: آزمائش کی شدت کا بیان
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِمَّا يَجِدُهُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ فَشَفَاكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " إِنَّا مُعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ عَلَيْنَا الْبَلَاءُ " وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤ابوعبیدہ بن حذیفہ نے اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتی ہیں : ہم کچھ خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ کے پاس ایک مشکیزہ لٹکایا گیا تھا جس میں سے پانی کے قطرے آپ پر ٹپک رہے تھے تاکہ آپ کو بخار کی جو گرمی محسوس ہو رہی ہے ( اس کا حل ہو سکے ) ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں ، تو وہ آپ کو شفاء نصیب کر دے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کا سامنا انبیاء کو کرنا پڑتا ہے پھر اس کے بعد ان کے بعد والے ( زیادہ نیک لوگوں کو ) پھر اس کے بعد ان کے بعد والوں کو پھر اس کے بعد ان کے بعد والوں کو ( یعنی زیادہ نیک لوگوں کو ایسا کرنا پڑتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ہم انبیاء کے گروہ کو دگنی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے “ ۔ امام أحمد کی سند حسن ہے ۔