حدیث نمبر: 3739
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجَدْتَ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ بِهِ عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَتْ [ لَهُ ] بِهَا دَرَجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف لاحق ہوئی آپ تکلیف کے عالم میں اپنے بستر پر پہلو بدلتے رہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اگر یہ تکلیف ہم میں سے کسی کو لاحق ہوتی ، تو میں اس کے خلاف غصہ محسوس کرتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیک لوگوں پر سختی مسلط کی جاتی ہے ، اور مومن کو جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے خواہ وہ کانٹا چبھنے کی ہو یا وہ اس سے بھی کم ہو ، تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ ختم کر دیے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح