مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُبْتَلَى . باب: جو شخص آزمائش کا شکار ہو جائے
وَعَنْ أَبِي عِنْبَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا ابْتَلَاهُ ، وَإِذَا ابْتَلَاهُ أَضْنَاهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَضْنَاهُ ؟ قَالَ : " لَا يَتْرُكُ لَهُ أَهْلًا وَلَا مَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ، ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ وَلَمْ يَذْكُرْ سَبَبًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو اسے آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ، اور جب اسے آزمائش کا شکار کرتا ہے ، تو اسے مشقت کا شکار کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسے مشقت کا شکار کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُس کے اہل خانہ اور مال کو اس کے لئے نہیں رہنے دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے ۔ امام ذہبی نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کوئی سبب ذکر نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔