حدیث نمبر: 372
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الرَّجُلُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَنْ زَنَى فَقَدْ كَفَرَ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْهِمَ أَحَادِيثَ الرُّخَصِ ، لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ : أَنَّ ذَلِكَ الزِّنَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنْ آمَنَ بِهِ أَنَّهُ لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِتِلْكَ السَّرِقَةِ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنْ آمَنَ بِهَا أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنْ شَرِبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ ، فَإِنِ انْتَهَبَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ فَقَدْ كَفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ كَذَّابٌ لَا تَحِلُّ الرِّوَايَةُ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین

علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر دیکھا ، وہ فرما رہے تھے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ایسی چیز ، جس کی طرف لوگ نگاہ اُٹھا کر دیکھ رہے ہوں ، اُسے لوٹ لینے والا اُس کو لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا اور شراب پینے والا شخص ، مؤمن نہیں رہتا ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اور بولا: امیرالمؤمنین ! جو شخص زنا کا ارتکاب کرتا ہے ، کیا وہ کافر ہو جاتا ہے ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم رخصت والی احادیث کو مبہم رکھیں ، زنا کرنے والا شخص مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے ، کہ وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ یہ زنا اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ زنا اُس کے لئے حلال ہے ، تو وہ شخص کافر ہو جائے گا ، چوری کرنے والا مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس چوری کے بارے میں یہ ایمان رکھتا ہو کہ وہ اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ وہ چوری اُس کے لئے حلال ہے ، تو وہ شخص کافر ہو جائے گا ، شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے ، مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ شراب اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ شخص اس شراب کو ایسی حالت میں پیتا ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ شراب اُس کے لئے ہلال ہے ، تو ایسا شخص کافر ہو جائے گا ، شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا شخص ، اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ چیز اُس کے لئے حلال ہے ، اگر وہ یہ ایمان رکھتے ہوئے اس چیز کو اچک لیتا ہے کہ وہ چیز اس کے لئے حلال ہے ، تو ایسا شخص کافر ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، جو کذاب ہے ، اُس سے روایت کرنا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 372
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 50/2»