حدیث نمبر: 3717
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يَتْبَعُهُ فَفَزِعَ عُمَرُ فَأَتَاهُ بِظَهْرَةٍ مِنْ جِلْدٍ فَوَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا فِي مَشْرَبَتِهِ فَتَنَحَّى عَنْهُ مِنْ خَلْفِهِ حَتَّى رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَقَالَ : " أَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ حِينَ وَجَدَتْنِي سَاجِدًا فَتَنَحَّيْتَ عَنِّي ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ بَحِيرٍ الْمِصْرِيِّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے کسی شخص کو نہیں پایا جو آپ کے پیچھے جاتا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گھبرا گئے وہ چھڑے کا ڈول لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بالا خانے میں سجدے کے حالت میں دیکھا وہ ایک طرف ہٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا جب تم نے مجھے سجدے کی حالت میں پایا تو مجھ سے پرے ہو کر بیٹھ گئے جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا : آپ کی امت کا جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، تو اللہ تعالٰی اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ، اور اس درود کی وجہ سے اس شخص کے دس درجات بلند کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدالرحیم بن بحیر مصری کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3717
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف