مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ ثَالِثٌ مِنْهُ . باب: اس سے متعلق تیسرا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ : وَالنَّجْمِ بِمَكَّةَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لِيَرْفَعُ إِلَى جَبِينِهِ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ، وَحَتَّى يَسْجُدَ [ الرَّجُلُ ] عَلَى الرَّجُلِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں سورت نجم کی تلاوت کی ، تو آپ نے سجدہ کیا آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ کیا یہاں تک کہ ایک شخص نے زمین سے کوئی چیز اٹھا کر اپنی پیشانی تک بلند کی اور اس پر سجدہ کر لیا اور ایک شخص نے دوسرے شخص پر سجدہ کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔