مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ ثَالِثٌ مِنْهُ . باب: اس سے متعلق تیسرا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي تَحْتَ شَجَرَةٍ وَكَأَنَّ الشَّجَرَةَ تَقْرَأُ ( ص ) فَلَمَّا أَتَتْ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَتْ فَقَالَتْ فِي سُجُودِهَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بِهَا اللَّهُمَّ حُطَّ عَنِّيَ بِهَا وِزْرًا وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَهُ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " سَجَدْتَ أَنْتَ ؟ " قُلْتُ : لَا قَالَ : " فَأَنْتَ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ مِنَ الشَّجَرَةِ " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ ( ص ) ثُمَّ أَتَى عَلَى السَّجْدَةِ وَقَالَ فِي سُجُودِهِ مَا قَالَتِ الشَّجَرَةُ فِي سُجُودِهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " قَالَتِ : اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک درخت کے نیچے موجود ہوں اور وہ درخت سورت ” ص “ کی تلاوت کر رہا ہے ، جب وہ سجدے کے مقام پر پہنچا تو وہ سجدے میں چلا گیا اور اس نے سجدے میں یہ پڑھا : ” اے اللہ ! تو اس کی وجہ سے میری مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس کی وجہ سے میرے گناہوں کو ختم کر دے اور اس کی وجہ سے مجھے شکر نصیب فرما اور اسے میری طرف سے قبول فرما لے ، جس طرح تو نے اپنے بندے سیدنا داؤد سے ان کے سجدے کو قبول کیا تھا “ ۔ راوی کہتے ہیں : اگلے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوسعید ! کیا تم نے سجدہ کیا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو درخت کے مقابلے میں تم سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ” ص “ تلاوت کی ، جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو آپ نے سجدے کے دوران وہی کلمات کہے ، جو درخت نے سجدے میں کہے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس درخت نے یہ کہا: ” اے اللہ ! اس سجدے کی وجہ سے میرے لئے اجر کو نوٹ کر لے “ ۔ اس کے علاوہ باقی الفاظ حسب سابق ہیں اس کی سند میں ایک راوی یمان بن نصر ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔