مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْجَهْرِ بِالْقُرْآنِ ، وَكَيْفَ يُقْرَأُ . باب: بلند آواز میں قرآن پڑھنا ، اسے کیسے پڑھا جائے ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ اطَّلَعَ فِي بَيْتٍ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَفِيهِ كَلَامٌ مِنْ سُوءِ حِفْظِهِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں سے جھانک کر دیکھا ، لوگ بلند آواز میں تلاوت کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نمازی ، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ، تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کیسے مناجات کر رہا ہے ؟ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند آواز میں تلاوت نہ کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔