مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ أَحَدًا مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخَافَةَ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ مُوقِنًا بِقَلْبِهِ - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى جِلْدِهِ - حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْقَلُوصِ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی حدیث بیان نہ کروں ؟ کہ جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وہ حدیث سنی ہے اُسے کسی کے سامنے اس اندیشے کے تحت بیان نہیں کیا کہ لوگ اسی پر اکتفاء کر لیں گے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :” جو شخص اپنے دل کے یقین کے ساتھ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کا پروردگار ہے اور میں اُس کا نبی ہوں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جلد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران القصیر ہے اور وہ متروک ہے ایک اور راوی عبداللہ بن ابوالقلوص ہے ۔