حدیث نمبر: 3599
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ ، وَكَانَ عُمَرُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ وَكَانَ عَمَّارٌ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ السُّورَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " لِمَ تُخَافِتُ ؟ " قَالَ : إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقَالَ لِعُمَرَ : " لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ ؟ " قَالَ : أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَقَالَ لِعَمَّارٍ : " لِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ السُّورَةِ ؟ " قَالَ : أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : فَكُلُّهُ طَيِّبٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب تلاوت کرتے تھے ، تو آواز کو پست رکھتے تھے ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جب تلاوت کرتے تھے ، تو وہ ایک سورت کا کچھ حصہ پڑھ لیتے تھے ، پھر دوسری سورت پڑھ لیتے تھے ، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا ، تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم پست آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں اس ذات تک آواز پہنچا دیتا ہوں ، جس کی بارگاہ میں ، میں مناجات کر رہا ہوتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم بلند آواز میں قرأت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں شیطان کو بھگاتا ہوں ، اور سوئے ہوئے کو بیدار کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم ایک سورت اور پھر دوسری سورت کیوں پڑھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : کیا آپ نے کبھی مجھے سنا کہ جو الفاظ اُس کا حصہ نہ ہوں ، میں نے وہ شامل کر دیے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : پھر یہ سب ( سورتیں ) پاکیزہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح