حدیث نمبر: 3596
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ قَالَ : فَبُنِيَ لَهُ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ قَالَ : فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ مِنْهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ قُلْتُ : وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الِاعْتِكَافُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے میں اعتکاف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کے پتوں کا گھر ( یعنی حجرہ نما ) بنا دیا گیا ، ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں سے سر باہر نکالا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک نمازی شخص جب نماز ادا کر رہا ہوتا ہے ، تو وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ، تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ مناجات میں کیا پڑھ رہا ہے ؟ اور تم ایک دوسرے کے مقابلے میں آواز بلند نہ کرو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اس حدیث میں سے صرف اعتکاف کا ذکر ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح