مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاقْتِصَارِ فِي الْعَمَلِ وَالدَّوَامِ عَلَيْهِ . باب: مختصر عمل کرنا ، لیکن باقاعدگی سے کرنا
حدیث نمبر: 3566
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ النَّفْسَ مَلُولَةٌ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي قَدْرَ الْمُدَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ مِنَ الْعِبَادَةِ مَا يُطِيقُ ثُمَّ لِيُدَاوِمْ عَلَيْهِ فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنَّ قَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک نفس ملول ہو جاتا ہے ، اور تم میں سے کوئی ایک بھی مدت کے بارے میں نہیں جانتا ( کہ اُسے کتنی زندگی نصیب ہوتی ہے ؟ ) تو آدمی کو عبادت کے حوالے سے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے جس کی وہ طاقت رکھ سکتا ہو ، پھر اُسے باقاعدگی سے کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے ، جسے باقاعدگی سے کیا جائے ، اگر وہ تھوڑا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جارود بن یزید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔