مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاقْتِصَارِ فِي الْعَمَلِ وَالدَّوَامِ عَلَيْهِ . باب: مختصر عمل کرنا ، لیکن باقاعدگی سے کرنا
وَعَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلًى لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يُصَلِّي وَلَا يَنَامُ وَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ : " أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ، لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ تَكُنْ فَتْرَتُهُ إِلَى السُّنَّةِ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ تَكُنْ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنوعبدالمطلب کے غلام کا ذکر کیا گیا ، جو نماز پڑھتا رہتا تھا اور سوتا نہیں تھا ، ( نفلی ) روزے رکھتا رہتا تھا ، اور کوئی روزہ ترک نہیں کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ( نفلی ) نماز ادا کرتا بھی ہوں ، اور سو بھی جاتا ہوں ، میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ، اور ترک بھی کر دیتا ہوں ، ہر عمل کے لیے نشاط ( یعنی چاق و چوبند ہونے کا پہلو ) ہوتا ہے ، اور ہر چاق و چوبند ہونے میں ضعف ( اور تھکاوٹ کا پہلو ) آ جاتا ہے ، تو جس شخص کا ضعف ( یعنی عمل ترک کر دینے کا پہلو ) سنت کی طرف ہو گا ، وہ ہدایت حاصل کر لے گا ، اور جس کا اُس ( سنت ) کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو گا ، وہ گمراہ ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔