حدیث نمبر: 355
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ - تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَشْتَهِيهِ ، حَتَّى إِنِّي لَأُحِبُّهُ فِي عَلَاقَةِ سَوْطِي ، وَفِي شِرَاكِ نَعْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرٌ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اُس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر موجود ہو ، تو وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا ، اور وہ اُسے ( جنت کو ) دیکھ بھی نہیں سکے گا ۔ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابوریحانہ تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں ، اور اس کا خواہش مند ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ مجھے یہ بات بھی پسند ہے کہ میرے کوڑے کے لٹکانے کی جگہ ، اور میرے جوتے کا تسمہ بھی عمدہ ہونا چاہیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ چیز تکبر نہیں ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، تکبر یہ ہے کہ آدمی حق سے منہ موڑ لے ، اور لوگوں کو اپنی نظروں میں حقیر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، اس نے اسے ایک ایسے شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 355
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 151/4 اورده المؤلف فى زوائد المسئد 146»