حدیث نمبر: 3546
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ : زَرَعَ فَلَانٌ زَرْعًا فَأَضْعَفَ ، أَوْ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا ذَاكَ ؟ ! رَكْعَتَانِ خَفِيفَتَانِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ، وَلَوْ أَنَّكُمْ تَفْعَلُونَ كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ لَأَكَلْتُمْ غَيْرَ وُزَعَاءَ وَلَا أَشْقِيَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اُس شخص نے عرض کی : فلاں شخص نے کاشت کاری کی تھی ، تو اسے دگنی پیداوار نصیب ہوئی ہے یا جس طرح بھی اس نے کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ کیا چیز ہے ؟ دو مختصر رکعات تمہارے لئے ، ان سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہیں ، جن کا تعلق دنیا سے ہے ، یا جو کچھ اس پر موجود ہے ، اور اگر تم ہر وہ کام کرنے لگو ، جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ، ( یہاں معجم طبرانی کے مطبوعہ نسخے میں یہ الفاظ ہیں : «غيراء زرعا ولا اشقياء ) تو تم بد نصیب ہوئے بغیر ، بھر پور طریقے سے کھاؤ ( یعنی تمہیں بہت زیادہ رزق نصیب ہو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر اور ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3546
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف