حدیث نمبر: 3534
وَعَنْ أَبِي مُعَانِقٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَدَامَ الصِّيَامَ وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا مُعَانِقٍ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ ، وَسُئِلَ عَنْهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فَقَالَ : مَجْهُولٌ لَا شَيْءَ . ¤
محمد محی الدین

ابومعانق اشعری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے ، اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ اس شخص کے لئے تیار کیے ہیں ، جو کھانا کھلاتا ہے ہمیشہ روزے رکھتا ہے ، اور رات کو اس وقت نماز ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ” ابومعانق “ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ ” ثقہ “ تابعین میں کیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ سے ان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ مجہول ہے ، اور کوئی چیز نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3534
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف