حدیث نمبر: 3532
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مَنْ ظَاهِرِهَا فَقَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ : لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ : فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور جن کا اندورنی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ، سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کس شخص کے لئے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کے لئے جو پاکیزہ کلام کرے کھانا کھلائے اور اس وقت کھڑا ہو کر رات بسر کرے ( یعنی نوافل ادا کرے ) جب لوگ سو رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں امام أحمد کی سند میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تھا “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3532
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔