حدیث نمبر: 3519
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ وَمُكَفِّرٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر رات کے وقت قیام کرنا ( یعنی نوافل ادا کرنا ) لازم ہے ، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا معمول ہے ، اور تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں قربت کے حصول کا باعث ہے ، یہ گناہوں کو ختم کرنے والا ہے ، اور گناہوں سے روکنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ، ائمہ کی ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3519
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف