مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ ، وَالْبِرُّ يَتَنَاثَرُ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا كَانَ فِي صَلَاةٍ ، وَمَا تَقَرَّبَ عَبْدٌ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ - يَعْنِي الْقُرْآنَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا جبیر بن نوفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کسی بھی بندے کی کسی بات کو اتنا پسند نہیں کرتا جتنی فضیلت دو رکعات ، یا اس سے زیادہ ( رکعات ) ادا کرنے کو حاصل ہے ، نیکی بندے کے سر پر چھڑکی جاتی رہتی ہے ، جب تک وہ نماز کی حالت میں رہتا ہے ، اور کوئی بھی بندہ اللہ تعالی کا قرب کسی ایسی چیز کے ذریعے حاصل نہیں کرتا ہے ، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ، جو چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد قرآن تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔