مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ نَسَبِهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ . باب: جو شخص اپنے نسب کے علاوہ کا دعوی کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے اُس کا بیان
حدیث نمبر: 348
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُفْرٌ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ ، وَادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كُفْرٌ بِامْرِئٍ " ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نسب سے برات کا اظہار کرنا ، کفر ہے ، خواہ وہ نسب کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو ، اور ( کسی ) ایسے نسب کا دعوی کرنا ، جو معروف نہ ہو ( یہ بھی کفر ہے ) “
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی یہ چیز کفر ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ روایت عمرو بن شعیب نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کی ہے ۔