مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَتْرِ . باب: وتر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 3447
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرْدٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَاكُوا وَتَنَظَّفُوا وَأَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَوْرَمَةَ ذَكَرَهُ فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسواک کرو ! پاکیزگی حاصل کرو وتر ادا کرو ، بے شک اللہ تعالی وتر ہے ، اور وتر کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے امام حاتم ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابراہیم بن اور مہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعریف بیان کی ہے ۔