حدیث نمبر: 3444
وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : " الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ " فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : وَفِي إِسْنَادِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً " . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي رِوَايَةُ أَحْمَدَ فِي عَدَدِ الْوِتْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

ان صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ روایت منقول ہے : ” وتر حق ہیں ، جو شخص چاہے ، وہ سات وتر ادا کر لے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ کہا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جو شخص ایک وتر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، وہ اشارہ کر لے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد کی روایت ، جو وتر کی تعداد کے بارے میں ہے ، وہ آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3444
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف