مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَتْرِ . باب: وتر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَلَهُ عِنْدَهُ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْقِنِّينَ ( وَالْكُوبَةَ ) وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوِتْرِ " . ¤ وَكِلَا الطَّرِيقَيْنِ لَا يَصِحُّ ؛ لِأَنَّ فِي الْأُولَى الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الثَّانِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤امام أحمد نے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، یہ روایت بھی نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب ، جوئے ، مزر ( مخصوص قسم کی شراب ، جو گندم ، جو ، یا شہد کے ذریعے بنائی جاتی ہے ، ) قنین ( اس سے مراد ” عود “ یعنی مخصوص قسم کا ساز ہے ) ، کو بہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد چوسر ہے ، اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ، ڈھول ہے ) کو حرام قرار دیا ہے ، اور مجھے وتر کی نماز مزید عطا کی ہے “ ۔
اس روایت کے دونوں طرق مستند نہیں ہیں ، تاہم پہلی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جب کہ دوسری سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبدالرحمن بن رافع ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔