حدیث نمبر: 3436
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " زَادَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - صَلَاةً وَهِيَ الْوَتْرُ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مُتَّهَمٌ ، وَمُعَاوِيَةُ لَمْ يَتَأَمَّرْ فِي زَمَنِ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن رافع تنوخی ، جو افریقہ کے قاضی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے ، اہل شام وتر ادا نہیں کرتے تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے ؟ میں نے اہل شام کو وتر ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ اُن پر واجب ہیں ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے پروردگار نے مجھے ایک مزید نماز عطا کی ہے ، اور وہ وتر ہیں ، جو عشاء سے لے کر صبح صادق تک کے درمیانی وقت میں ادا کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور اس پر تہمت عائد کی ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ، امیر نہیں بنے تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3436
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً