مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى . باب: چاشت کی نماز
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمُرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَمَا أَدْرِي مَا هِيَ ؟ قَوْلُهُ : بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فِي جَفْنَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثُمَّ قَالَ : " يَا أُمَّ هَانِئٍ هَذِهِ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِي وَجَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے میں یہ آیت « بالعشي والا شراق » تلاوت کیا کرتا تھا ، لیکن مجھے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث بیان کی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں وضو کا پانی منگوایا ، جس میں مجھے آٹے کا نشان نظر آ رہا تھا ، نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ نے چاشت کے وقت نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اُم ہانی ! یہ نماز اشراق ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے علی بن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ۔