مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى . باب: چاشت کی نماز
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُ صَلَّى الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ حِينَ بُشِّرَ بِالْفَتْحِ وَحِينَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ الصَّلَاةَ حِينَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ شَعْثَاءُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَحَهَا . ¤سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے چاشت کے وقت دو رکعات ادا کیں ، تو ان کی اہلیہ نے اُن سے کہا: آپ نے دو رکعات ادا کی ہیں ؟ تو انہوں نے یہ بتایا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح کی خوشخبری دی گئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں دو رکعات ادا کی تھیں ، اور جب آپ کو ابوجہل کے سر کی خوشخبری دی گئی تھی ( تو اُس وقت بھی دو رکعات ادا کی تھیں ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ، اس صحابی کے حوالے سے صرف
یہ روایت نقل کی ہے : کہ ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کے سر کی خوشخبری دی گئی ، تو آپ نے نماز ادا کی تھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعشاء ہے ، میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور نہ ہی اُس پر جرح کرتے ہوئے پایا ہے ۔