مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ بِمَكَّةَ فِي كُلِّ الْأَوْقَاتِ . باب: مکہ میں تمام اوقات میں نماز ادا کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ مُنَافٍ ( يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ) إِذَا وُلِّيتُمْ هَذَا الْأَمْرَ فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أَنْ يُصَلِّيَ أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَقَالَ : يَعْنِي رَكْعَتِي الطَّوَافِ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فِي كُلِّ النَّهَارِ . ¤ وَفِيهِ سَلِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَشَّابُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنوعبدمناف ! اے بنوعبدالمطلب ! اگر تمہیں اس معاملے کا نگران بنا دیا جائے ، تو تم اس گھر کا طواف کرنے والے کسی بھی شخص کو ، رات یا دن کی کسی بھی گھڑی میں ، نماز ادا کرنے سے نہ روکنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ طواف کی دو رکعات صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے ، اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ، کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیم بن مسلم خشاب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔