مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت اور دیگر امور کا بیان
وَعَنْ قَبِيصَةَ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ مِنَ الدَّهْرِ تَحْبِسُنَا عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ : " لَا إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَهُوَ صَدُوقٌ فِي نَفْسِهِ صَحِيحُ الْكِتَابِ وَلَكِنَّهُ سَاءَ حِفْظُهُ وَقَبِلَ التَّلْقِينَ . ¤قبیصہ بن مہلب ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا : کہ کیا کوئی ایسا وقت بھی ہے ، جو ہمیں نماز ادا کرنے سے روک دیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! البتہ سورج طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت ( نماز ادا نہیں کی جائے گی ) کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ، اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے صدوق ہے ، اور تحریر میں مستند ہے ، لیکن حافظے کے اعتبار سے برا ہے ، وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔