مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت اور دیگر امور کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ : رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ وَنَهَانِي وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ أَبَا يَعْلَى قَالَ : رَآنِي أَبُو هُبَيْرَةَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سعید بن نافع بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں سورج طلوع ہونے کے وقت چاشت کی نماز ادا کر رہا تھا ، تو انہوں نے اس کے حوالے سے مجھ پر اعتراض کیا اور مجھے اس سے منع کیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اس وقت تک نماز ادا نہ کرو ، جب تک سورج بلند نہیں ہو جاتا ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم امام ابویعلیٰ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ابوہبیرہ نے مجھے دیکھا “ امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔