مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت اور دیگر امور کا بیان
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَمًّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ ، مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ فَإِذَا اعْتَدَلْتَ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَا أَدْرِي سَمِعَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ مِنْهُ أَمْ لَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں ، جس سے آپ واقف ہیں اور میں اُس سے ناواقف ہوں ، رات کی اور دن کی کون سی گھڑیاں ایسی ہیں ، جن میں نماز ادا کرنے کو آپ مکروہ قرار دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم صبح کی نماز ادا کر لو ، تو تم نماز ادا کرنے سے رک جاؤ ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، جب وہ طلوع ہو جائے تو پھر تم نماز ادا کرو ، کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے ، اور وہ قبول ہوتی ہے ، ایسا اس وقت تک کر سکتے ہو ، جب تک ( سورج ) تمہارے سر پر نیزے کی مانند برابر نہیں ہو جاتا ( یعنی عین دوپہر کا وقت نہیں ہو جاتا ) جب وہ بالکل تمہارے سر پر آ جائے ، تو یہ وہ گھڑی ہے ، جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے ، اور اس میں جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، ایسا اُس وقت تک ہو گا ، جب تک وہ ( سورج ) ڈھل نہیں جاتا ، جب وہ ڈھل جائے تو تم نماز ادا کر سکتے ہو ، کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے ، اور وہ قبول ہوتی ہے ، اور تم نماز اس وقت تک ادا کر سکتے ہو ، جب تک تم عصر کی نماز ادا نہیں کر لیتے “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے مسند أحمد کی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ مجھے نہیں معلوم کہ سعید مقبری نے ان سے سماع کیا ہے ، یا نہیں کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ امام ابن ماجہ نے
یہ روایت سعید مقبری کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے : ( وہ بیان کرتے ہیں : ) سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول الله ! ۔