مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ . باب: استسقاء کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَمْحَلَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَيَبِسَ الشَّجَرُ ( وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ) وَأَسِنَتِ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُوا وَاخْرُجُوا مَعَكُمْ بِصَدَقَاتٍ " ، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ ، يَمْشِي وَيَمْشُونَ وَعَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ ، حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوْلَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ثُمَّ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَسْقِيَ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا رَحْبًا رَبِيعًا وَجَدًّا غَدَقًا طَبَقًا مُغْدِقًا هَنِيئًا مُرِيعًا مُرْبِعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا نَجْلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ ، اللَّهُمَّ تُحْيِي بِهِ الْبِلَادَ وَتُغِيثُ بِهِ الْعِبَادَ وَتَجْعَلُهُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا زِينَتَهَا وَأَنْزِلْ ( عَلَيْنَا )فِي أَرْضِنَا سَكَنَهَا اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا فَأَحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتَةً وَاسْقِهِ مَا خَلَقْتَ أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا " ، قَالَ : فَمَا بَرِحُوا حَتَّى أَقْبَلَ قَزَعٌ مِنَ السَّحَابِ فَالْتَأَمَ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لَا تُقْلِعُ عَنِ الْمَدِينَةِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : قَدْ رَأَيْتُهُ أَحَدَ الْكَذَّابِينَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بارش نہیں ہوئی ، مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بارش کا قحط ہو گیا ہے ، درخت خشک ہو گئے ہیں ، مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں اور لوگ بیمار ہو رہے ہیں ، آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے بارش کی دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب فلاں دن آئے گا ، تو تم لوگ نکلنا اور تم لوگ اپنے ساتھ اپنے صدقات لے کے آنا ، جب وہ مخصوص دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے اور لوگ بھی پیدل گئے ، ان سب لوگوں پر سکینت اور وقار تھا ، یہاں تک کہ وہ لوگ عید گاہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، آپ نے اُن لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں ، جن میں آپ نے بلند آواز میں قرأت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں اور استقاء کی نماز میں پہلی رکعت میں ، سورہ فاتحہ اور سورت الاعلیٰ پڑھتے تھے ، اور دوسری رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت الغاشیہ پڑھتے تھے ، جب آپ نے نماز مکمل کی ، تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا ، اور اپنی چادر کو الٹا لیا ، پھر آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے ، دونوں ہاتھ بلند کر لئے اور بارش کے نزول کی دعا کرنے سے پہلے آپ نے تکبیر کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمیں ایسے بادل کے ذریعے سیراب فرما ! جو برسنے والا ہو ، وسیع ہو ، پیداوار کرنے والا ہو ، بھر پور ہو ، زیادہ بارش والا ہو ، تہوں والا ہو ، سیراب کرنے والا ہو ، عام ہو ، سر سبز و شاداب کر دے ، گھاس پھوس پیدا کرنے والا ہو ، موسلا دھار ہو ، شامل ہو ، لٹکانے والا ہو ، تیزی سے چلنے والا ہو ، مستقل ہو ، لبریز ہو ، نفع بخش ہو ، نقصان دہ نہ ہو ، جلدی ہو تاخیر سے نہ ہو ، اے اللہ ! تو اُس کے ذریعے شہروں کو زندگی دے دے ، اور بندوں کی مدد کر دے ، تو اسے ہم میں سے شہریوں اور باہر سے آنے والوں کے لئے سہولت کا باعث بنا دے ، اے اللہ ! ہم پر ہماری زمین میں اس کی زینت نازل کر دے ، اور ہم پر ہماری زمین میں اس کی سکینت نازل کر دے ، اے اللہ ! ہم پر آسمان سے پاک پانی نازل کر دے ، اور اس کے ذریعے بنجر شہر کو زندگی دے دے ، اور اسے سیراب کر دے اور اس کے ذریعے جانوروں کو اور بہت سے لوگوں کو جنہیں تو نے پیدا کیا ہے ، سیراب کر دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اس دوران بادل کا ایک ٹکڑا آیا ، پھر وہ ٹکڑے ایک دوسرے سے مل گئے ، پھر ان لوگوں پر مسلسل سات دن بارش ہوتی رہی ، جو مدینہ منورہ میں رکی نہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ، جو ” صحیح “ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ وہ جھوٹے لوگوں میں سے ایک ہے ۔