مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ . باب: استسقاء کا بیان
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَحَطَ الْمَطَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْتَسْقِيَ لَنَا ، فَاسْتَسْقَى ، فَغَدَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ بِقَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالُوا : سُقِينَا اللَّيْلَةَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى قَوْمٍ نِعْمَةً إِلَّا أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش کا قحط ہو گیا ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لئے بارش کے نزول کی دعا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو کچھ لوگ آپس میں یہ بات چیت کر رہے تھے ، کہ گزشتہ رات فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نمت عطا کرتا ہے ، تو وہ اس ( نعمت ) کے حوالے سے کافر ہو جاتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔