مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : سِحْرُ الشَّمْسِ فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ فَإِنْ كَانَ هُوَ التُّسْتَرِيَّ فَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَا أَعْرِفُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، لوگوں نے کہا: سورج پر جادو کیا گیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” قیامت قریب آ گئی ہے ، چاند دو ٹکڑے ہو گیا ہے ، اگر وہ کوئی آیت دیکھتے ہیں ، تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : یہ جاری رہنے والا جادو ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن زکریا ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے ، اگر وہ تستری ہے ، تو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔