مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ : لَا يَرْكَعُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ : لَا يَرْفَعُ مِنْ طُولِ الرُّكُوعِ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ كَنَحْوِ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِي الْأُخْرَى عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَرَوَى الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ مِنْ رِوَايَةِ قَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عظیم شخصیت کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ نے طویل قیام کیا ، یہاں تک کہ آپ کے طویل قیام کی وجہ سے یہ بات کہی گئی کہ آپ شاید رکوع میں نہیں جائیں گے ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، اور طویل رکوع کیا ، یہاں تک کہ آپ کے طویل رکوع کی وجہ سے یہ کہا: گیا : کہ آپ رکوع سے اٹھیں گے نہیں ، پھر آپ اُٹھے تو طویل قیام کیا ، جو آپ کے پہلے والے قیام جتنا تھا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو طویل رکوع کیا ، جو آپ کے پہلے رکوع جتنا تھا ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، یوں آپ نے چار رکوع کیے اور چار سجدے کیے ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جب تم ان دونوں کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو ، تو نماز کی طرف آ جاؤ ! “
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کی سند میں مسلم بن خالد نامی راوی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، جب کہ دوسری سند میں علی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے وہ حصہ نقل کیا ہے ، جو قاسم بن محمد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے : ” بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، جب تم ان دونوں کو دیکھو ، تو نماز ادا کرو ! “ ۔