مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا 3230 عَنْ أَيُّوبَ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ : وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3252
عَنْ أَبِي طَرَفَةَ عَبَّادِ بْنِ الرَّيَّانِ اللَّخْمِيِّ الْحِمْصِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ وَهُوَ فِي قَرْيَةٍ عَلَى أَمْيَالٍ مِنْ حِمْصَ يَوْمَ عِيدٍ فَقُلْنَا : اخْرُجْ فَصَلِّ بِنَا الْعِيدَ فَقَالَ : لَا ، صَلُّوا فُرَادَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو طَرَفَةَ لَا أَعْرِفُهُمحمد محی الدین
ابوطرفہ عباد بن ریان لخمی حمصی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جو حمص سے چند میل دور ایک گاؤں میں رہتے تھے ، یہ عید کے دن کی بات ہے ، ہم نے کہا: آپ تشریف لے جائیں اور ہمیں عید کی نماز پڑھائیں انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! تم لوگ اکیلے ، اکیلے نماز ادا کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوطرفہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔