مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الصِّدْقَ مِنَ الْإِيمَانِ . باب: سچائی کے ایمان کا حصہ ہونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ ، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ أُذَيْنٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ ، بَعْضُهَا فِي الْعِلْمِ ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی اُس وقت تک مکمل طور پر مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک وہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنا ، اور جھگڑا کرنا ترک نہیں کر دیتا خواہ وہ سچا ہی ( یعنی جھگڑا کرنے میں حق پر ہی ) کیوں نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن اذین ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث آگے آئیں گی ، جن میں سے کچھ علم سے متعلق باب میں آئیں گی اور کچھ ادب سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔