مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا 3230 عَنْ أَيُّوبَ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ : وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا کرنا
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى فِي عَرْصَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْوَلِيدُ : إِنَّ الْعِيدَ قَدْ حَضَرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : تَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَحْمَدُ اللَّهَ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو ، ثُمَّ كَبِّرْ وَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ كَبِّرْ وَارْكَعْ وَاسْجُدْ ثُمَّ قُمْ فَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ كَبِّرْ وَاحْمَدِ اللَّهَ وَاثْنِ عَلَيْهِ وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَادْعُ ثُمَّ كَبِّرْ ، وَاحْمِدِ اللَّهَ ، وَأَثْنِ عَلَيْهِ ، وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] وَارْكَعْ وَاسْجُدْ قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى : أَصَابَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكْ وَاحِدًا مِنْ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ مسجد میں داخل ہوا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری مسجد کے صحن میں موجود تھے ، ولید نے کہا: عید آ گئی ہے ، تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : اللہ اکبر ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو ، اُس کی ثنا بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو ! اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ، اس کی حمد بیان کرو ، اس کی ثناء بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو ! پھر تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ، اس کی حمد بیان کرو ، اس کی ثناء بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو ! اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ، اس کی حمد بیان کرو ، اس کی ثناء بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور دعا کرو ! پھر تم تکبیر کہو اور سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر تم تکبیر کہو اور رکوع میں چلے جاؤ اور سجدہ کرو پھر تم اٹھو اور سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر تکبیر کہو اس کی حمد بیان کرو اس کی ثناء بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو پھر تکبیر کہو اس کی حمد بیان کرو اس کی ثناء بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور رکوع میں چلے جاؤ اور سجدہ کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابراہیم نامی راوی نے ان صحابہ کرام میں سے کسی کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے ، یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔